“On unseen lands, youth casts its eager eye;Today, by the shore of that unknown land.”
جوانی نامعلوم زمینوں پر بے تابی سے نگاہ ڈالتی ہے۔ آج وہ خود اس انجانی سرزمین کے کنارے پر کھڑا ہے۔
یہ شعر جوانی کے اس خوبصورت جذبے کو بیان کرتا ہے جہاں نوجوان ذہن نامعلوم کو جاننے کے لیے بے تاب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں اس منظر میں لے جاتا ہے جہاں نوجوان آنکھیں دور، ان دیکھی سرزمینوں کی طرف اشتیاق سے دیکھ رہی ہیں، جو مستقبل اور اس کے بے شمار امکانات کی علامت ہے۔ اگلا مصرع ہمیں اس ان دیکھی سرزمین کے 'کنارے' پر کھڑا کرتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دریافت کا سفر صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک عنقریب حقیقت ہے جو سامنے آنے والی ہے۔ یہ اس سنسنی خیز لمحے کے بارے میں ہے جب تجسس موقع سے ملتا ہے اور کوئی وسیع، دلچسپ نامعلوم میں قدم رکھنے کو تیار ہوتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
