“Who is she, swinging all alone, Upon a single blossomed Bakul bough? Lost in rapture on that flowery throne! Her dishevelled tresses sway now.”
وہ کون ہے جو بکل کے پھولوں سے بھری شاخ پر اکیلے جھولا جھول رہی ہے؟ وہ پھولوں سے سجی اس شاخ پر مست ہوکر جھوم رہی ہے اور اس کے بکھرے ہوئے بال جھول رہے ہیں۔
یہ شعر ایک اکیلی عورت کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے جو بکل کے پھولوں سے لدی ایک شاخ پر جھولا جھولتے ہوئے اپنی خوشی میں محو ہے۔ بکل کا درخت اپنی خوشبودار چھب کے ساتھ ایک رومانوی اور پرسکون ماحول بناتا ہے۔ اس کے بکھرے ہوئے بال ہوا میں لہراتے ہوئے اس لمحے کے تئیں اس کی مکمل سپردگی اور بے پناہ مسرت کو خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، گویا وہ فطرت اور اپنے والہانہ جذبات میں گم ہو گئی ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
