“Can my village's border be seen from this place? (I speak) from the jail.My humble abodes line Mahisagar's shore, O brother!”
کیا میرے گاؤں کی سرحد یہاں سے نظر آتی ہے؟ (میں جیل سے کہہ رہا ہوں۔) میرے معمولی گھر ماہی ساگر کے کنارے پر ہیں، اے بھائی!
یہ دوہا دل کو چھو لیتا ہے، ہے نا؟ تصور کیجیے، کوئی جیل میں قید ہے، اپنے گھر سے دور، اور وہ بے چینی سے پوچھ رہا ہے کہ کیا اس کے گاؤں کی سرحد بھی جیل کی دیواروں سے نظر آتی ہے۔ یہ صرف ایک طبعی حد دیکھنے کی بات نہیں ہے؛ یہ اس کی آزادی، اس کے پیاروں، اور ماہی ساگر ندی کے کنارے کی اس سادہ، جڑوں سے جڑی زندگی کے لیے ایک رقت انگیز پکار ہے۔ 'میرے جھونپڑے' اور 'ماہی ساگر کا کنارہ' ایک پیارے ماضی کی جیتی جاگتی تصویر کھینچتے ہیں، جو اب جیل کی دیواروں کے اندر ایک دور کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
