“Though half-hungry you may remain, O brother!Though half-hungry you may remain;”
تم آدھے بھوکے بھلے ہی رہو، اے بھائی! تم آدھے بھوکے بھلے ہی رہو۔
یہ شعر ہمیں 'آدھے بھوکے' رہنے کا مشورہ دیتا ہے، میرے بھائی۔ یہ صرف لفظی بھوک کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ خواہشات اور دنیاوی تمناؤں سے کنارہ کشی کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ شاید یہ سادگی میں اطمینان تلاش کرنے یا ہمیشہ کسی گہری چیز کی تلاش میں رہنے کا اشارہ ہے، تاکہ ہم کبھی دنیاوی چیزوں سے مکمل طور پر سیر نہ ہو جائیں۔ یہ ہمیں روحانی تلاش اور اپنی شخصیت کی نشوونما کے لیے ایک حصہ ہمیشہ کھلا رکھنے کی دعوت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
