“There's a wise daughter, Mariyam by name;Tell her not to touch the prison bars.”
مریم نام کی ایک سمجھدار بیٹی ہے؛ اسے بتانا کہ جیل کی سلاخوں کو ہاتھ نہ لگائے۔
یہ دوہا، جو اکثر جیل سے لکھے گئے کلام میں ملتا ہے، ایک دل گداز تنبیہہ پیش کرتا ہے۔ اس میں ایک "سمجھدار بیٹی"، مریم سے کہا گیا ہے کہ وہ جیل کی سلاخوں کو نہ چھوئے۔ یہ صرف جسمانی قید کی بات نہیں؛ یہ دنیا کی تلخ حقیقتوں، منفی اثرات، یا ان چیزوں سے دور رہنے کا ایک استعارہ ہے جو آزادی یا معصومیت کے چھن جانے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ کسی ایسے شخص کی دلی التجا ہے جس نے قید کا درد محسوس کیا ہے، اور جو اپنے پیارے کو اسی طرح کی تکلیف سے بچانا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
