“Have not their anguished cries been heard?Within, in silent solitude, thousands of souls slowly wither and are interred.”
کیا ان کے کربناک نالے نہیں سنے گئے؟ اندر ہی اندر، خاموش تنہائی میں، ہزاروں روحیں دھیرے دھیرے گھٹ کر بجھ جاتی ہیں۔
یہ شعر ان کہے دکھوں پر ایک گہرا غور ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا کسی کی درد بھری چیخیں ان سنی رہ گئیں، جو ظاہری تکلیفوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن پھر یہ اور گہرائی میں جا کر ایک دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہزاروں روحیں خاموشی سے، تنہائی میں آہستہ آہستہ مرجھا کر اندر ہی اندر دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ ہمیں اس خاموش مایوسی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، خواہ پریشانی کے آثار موجود ہوں۔
آڈیو
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
