“Break, break the chains, let life's spirit cast off its prison; Awake, O society, to raise a cry against the foe!”
بیڑیاں توڑو، توڑو، تاکہ عوام کی روح قید سے آزاد ہو جائے۔ اے معاشرہ، بیدار ہو جاؤ اور دشمن کے خلاف آواز اٹھاؤ۔
یہ دوہا ایک ولولہ انگیز پکار ہے، ہے نا؟ یہ بڑی خوبصورتی سے 'زنجیروں' کو توڑ کر زندگی کی روح کو اس کی 'قید' سے آزاد کرنے کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ صرف بیرونی بندھنوں سے نہیں، بلکہ ہر قسم کی رکاوٹ سے چھٹکارا پانے کا گہرا پیغام ہے۔ شاعر پورے جوش و خروش سے معاشرے سے 'جاگنے' اور متحد ہو کر دشمن کے خلاف اپنی 'آواز' بلند کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
