“The worn foundations of the earth are cleansed by tears,Washed by blood; the forces of tyrants shatter;”
زمین کی بوسیدہ بنیادیں آنسوؤں سے صاف ہوتی ہیں اور خون سے دھلتی ہیں؛ اس سے ظالموں کے لشکر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔
یہ شعر بہت خوبصورتی سے یہ بتاتا ہے کہ جب دنیا کی بنیادیں ظلم و ستم سے بوسیدہ ہو جاتی ہیں، تو انہیں آنسوؤں کی پاکیزگی اور خون کی قربانی سے ہی دوبارہ صاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ دکھ اور جدوجہد، جو آنسوؤں اور خون سے ظاہر ہوتی ہے، ظالموں کی طاقت کو توڑ دیتی ہے۔ بالآخر، یہی قربانی اور جدوجہد ظالم قوتوں کا شیرازہ بکھیر کر ایک نئی صبح کی نوید لاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
