બહુ દિન દાસત્વ સહ્યાં, જીવન નીર્વીર્ય થયાં, બંધુત્વે વહ્યા પ્રાણ નવરચના માર્ગે;

“Many days of servitude endured, our lives became devoid of might; In brotherhood, our spirits flowed on the path of new creation's light.”

— جھویَرچند میگھانی
معنی

بہت دن غلامی برداشت کی گئی، اور زندگیاں بے طاقت ہو گئیں۔ بھائی چارے میں، روحیں نئے تخلیق کے راستے پر بہہ گئیں۔

تشریح

یہ شعر مایوسی سے امید کی طرف ایک خوبصورت سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ طویل غلامی کے بعد زندگی سے قوت اور روح کے چھن جانے کی ایک واضح تصویر کھینچتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک بے جان، سوکھا ہوا پودا ہو۔ لیکن پھر ایک زبردست تبدیلی آتی ہے: بھائی چارے کی گرم جوشی اور طاقت کے ذریعے، وہی روحیں دوبارہ روشن ہو جاتی ہیں، ایک دریا کی مانند مل کر ایک نئی شروعات، ایک اجتماعی تخلیق اور تجدید کے روشن افق کی طرف بہتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.