“Hearing 'Po! Po! Tro! Tro!' sounding now, Oh, if a wave would grace the river's brow!”
‘پو! پو! ترو! ترو!’ کی آواز سنتے ہوئے، کاش کوئی ندی ہوتی اور اس میں لہر اٹھتی۔
یہ شعر خاموش حسرت کے ایک لمحے کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ 'پو! پو! ترو! ترو!' کی بار بار آتی، اداس سی آواز پانی کے پاس کی خاموشی یا وقت کے بے کیف گزرنے کا اشارہ دیتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ دریا میں ایک لہر اٹھے، جو حرکت، تبدیلی یا زندگی کے ایک پُرجوش لمس کی خواہش کی علامت ہے تاکہ یہ سکون ٹوٹ سکے۔ یہ ایک پرسکون، مگر شاید ادھوری، صورتحال میں تھوڑی سی جنبش کی ایک نرم سی آرزو ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
