“The occasional spray of shots, the firing's sound-All that has now grown old, accustomed to the ground, O Sire!”
گولی باری کی چھٹ پٹ بوچھاڑیں اور اس کی آواز اب پرانی ہو گئی ہیں؛ لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں، باپو!
یہ پُردرد شعر دکھاتا ہے کہ کیسے انسان مسلسل مشکلات یا تشدد کے بیچ رہتے ہوئے بے حس ہو جاتا ہے۔ 'گولی باری کے چھڑکاؤ' کی بات کرکے شاعر بتاتا ہے کہ بار بار ہونے والا تشدد کس طرح ہمیں جھنجھوڑنا چھوڑ دیتا ہے۔ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ کبھی ڈرانے والی یہ آوازیں اب 'پرانی' ہو کر 'عادت' سی بن گئی ہیں، یعنی لوگ ان کے عادی ہو گئے ہیں۔ یہ ایک طرح سے 'باپو' سے شکایت ہے کہ کس طرح دکھ اب ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے، اور غیر معمولی بھی اب عام لگنے لگا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
