“The path will remain unfinished, provisions will cease;Thirst will afflict the throat, strength will decrease.”
راستہ ادھورا رہ جائے گا اور زادِ راہ ختم ہو جائے گا۔ گلا خشک ہو جائے گا اور طاقت کم ہو جائے گی۔
اوہ، یہ شعر کتنی گہری بات بیان کرتا ہے، ہے نا؟ ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کے سفر میں ایک ایسا موڑ آ گیا ہو جہاں سب کچھ ٹھہر گیا ہو۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ کسی لمبی راہ پر ہیں، آپ کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہے، گلا خشک ہو رہا ہے اور ساری طاقت ختم ہو رہی ہے۔ یہ اس مکمل تھکاوٹ کی حالت کو خوبصورتی سے دکھاتا ہے، جہاں خواب اور کوششیں ادھوری ہی رہ جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
