غزل
था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही
था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही
یہ غزل ایک ایسے مقام کی تصویر کشی کرتی ہے جو کبھی 'مدرسہِ شیری و شاہنشاہی' تھا، لیکن اب صرف ایک رُبابی بن کر رہ گیا ہے۔ شاعر یاد کرتا ہے کہ کبھی اس جگہ پر 'تہدیثِ کلیم اللہ' کی محفلیں لگتی تھیں، اور اس باغ کی یاد بھی کرتا ہے جہاں کبھی نغموں کا لطف اٹھایا جاتا تھا اور ایک عجیب سی سرماستی و حیرت کا ماحول تھا۔
نغمہ سنیں
1
था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही
आज इन ख़ानक़हों में है फ़क़त रूबाही
تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقہوں میں ہے فقط روباہی
جہاں کبھی شہر اور سلطنت کی شان و شوکت کا مدرسہ تھا، آج ان خانقاہوں میں صرف ایک کمرہ باقی ہے۔
2
नज़र आई न मुझे क़ाफ़िला-सालारों में
वो शबानी कि है तम्हीद-ए-कलीमुल-लाही
نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں میں
وہ شبانی کہ ہے تمہید کلیم اللہٰی
نذر آئی مجھے بادشاہوں کے قافلے میں، وہ شبانی جو کلمُ اللٰہی کی تمہید ہے۔
3
लज़्ज़त-ए-नग़्मा कहाँ मुर्ग़-ए-ख़ुश-अलहाँ के लिए
आह उस बाग़ में करता है नफ़स कोताही
لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے لیے
آہ اس باغ میں کرتا ہے نفس کوتاہی
खुशबूदार मुर्गी کے لیے نغمے کا مزہ کہاں ہے، کہ اس باغ میں سانس کو تھامنا پڑتا ہے۔
4
एक सरमस्ती ओ हैरत है सरापा तारीक
एक सरमस्ती ओ हैरत है तमाम आगाही
ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی
ایک سرمستی اور ایک حیرت ہے جو سراب تاریک کا زوال ہے؛ ایک سرمستی اور ایک حیرت ہے جو تمام آگاهی کا نور ہے۔
5
सिफ़त-ए-बर्क़ चमकता है मिरा फ़िक्र-ए-बुलंद
कि भटकते न फिरें ज़ुल्मत-ए-शब में राही
صفت برق چمکتا ہے مرا فکر بلند
کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمت شب میں راہی
میرا بلند فکر بجلی کی چمک کی طرح چمکتا ہے، تاکہ راہگیر اندھیرے میں بھٹک نہ سکیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
