Sukhan AI
غزل

था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही

था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही
علامہ اقبال· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک ایسے مقام کی تصویر کشی کرتی ہے جو کبھی 'مدرسہِ شیری و شاہنشاہی' تھا، لیکن اب صرف ایک رُبابی بن کر رہ گیا ہے۔ شاعر یاد کرتا ہے کہ کبھی اس جگہ پر 'تہدیثِ کلیم اللہ' کی محفلیں لگتی تھیں، اور اس باغ کی یاد بھی کرتا ہے جہاں کبھی نغموں کا لطف اٹھایا جاتا تھا اور ایک عجیب سی سرماستی و حیرت کا ماحول تھا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
था जहाँ मदरसा-ए-शीरी-ओ-शाहंशाही आज इन ख़ानक़हों में है फ़क़त रूबाही
جہاں کبھی شہر اور سلطنت کی شان و شوکت کا مدرسہ تھا، آج ان خانقاہوں میں صرف ایک کمرہ باقی ہے۔
2
नज़र आई न मुझे क़ाफ़िला-सालारों में वो शबानी कि है तम्हीद-ए-कलीमुल-लाही
نذر آئی مجھے بادشاہوں کے قافلے میں، وہ شبانی جو کلمُ اللٰہی کی تمہید ہے۔
3
लज़्ज़त-ए-नग़्मा कहाँ मुर्ग़-ए-ख़ुश-अलहाँ के लिए आह उस बाग़ में करता है नफ़स कोताही
खुशबूदार मुर्गी کے لیے نغمے کا مزہ کہاں ہے، کہ اس باغ میں سانس کو تھامنا پڑتا ہے۔
4
एक सरमस्ती ओ हैरत है सरापा तारीक एक सरमस्ती ओ हैरत है तमाम आगाही
ایک سرمستی اور ایک حیرت ہے جو سراب تاریک کا زوال ہے؛ ایک سرمستی اور ایک حیرت ہے جو تمام آگاهی کا نور ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.