کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو — علامہ اقبال
کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے
“Even a destination once left behind calls to the traveler, It feels like a thorn in the heart, lest it becomes the sorrow of the destination.”
— علامہ اقبال
معنی
کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی راہگیر کو یاد آتی ہے۔ یہ دل میں ایک چبھن سی ہے کہ کہیں یہ منزل کا غم نہ بن جائے۔
تشریح
یہ شعر سفر کی کیفیت اور یادوں کے بوجھ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ کبھی کبھی وہ منزل بھی یاد آتی ہے جو چھوڑ کر آئے تھے۔ یہ یاد دلانے والی ایک تکلیف ہے جو دل میں رہ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
