न मय न शे'र न साक़ी न शोर-ए-चंग-ओ-रबाब
सुकूत-ए-कोह ओ लब-ए-जू व लाला-ए-ख़ुद-रू
“Neither the beloved, nor the lion, nor the cupbearer, nor the clamor of the string and the rebab, Is the silence of the mountain, or the lip of the rose, or the flower of the self.”
— علامہ اقبال
معنی
نہ محبوب، نہ شاعر، نہ ساقي، نہ چنگ اور رباب کا شور—یہ کوہ کی خاموشی ہے، یا گلاب کے ہونٹ ہیں، یا خود کا پھول۔
تشریح
یہ شعر عموماً کی شاعری اور رومانس کے تمام عناصر سے بیزاری کا اظہار ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ نہ شاعری ہے، نہ ساقی کا نشہ، نہ موسیقی... اصل سکون تو پہاڑ کی خاموشی، ہونٹوں کی نزاکت اور محبوب کے اپنے وجود میں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
