غزل
हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई
हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई
یہ غزل محوائے خودنمائی کے اثر کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر چیز اپنی شان و شوکت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ زندگی کو ایک بے ذائقہ اور بے مقصد کوشش قرار دیتی ہے، اور کہتی ہے کہ حقیقی الٰہی پن خود کی تعمیر میں پنہاں ہے۔ آخر میں، یہ کہتی ہے کہ وجود کا جوہر اور تقدیر ہی جدائی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई
हर ज़र्रा शाहीद-ए-किब्रियाई
ہر چیز میں خود-نمائی کا نشاط ہے، اور ہر ذرہ شان و شوکت کا گواہ ہے۔
2
बे-ज़ौक़-ए-नुमूद ज़िंदगी मौत
तामीर-ए-ख़ुदी में है ख़ुदाई
بے ذوقِ نموَد زندگی موت، تعمیرِ خودی میں ہے خدائی۔
3
राई ज़ोर-ए-ख़ुदी से पर्बत
पर्बत ज़ोफ़-ए-ख़ुदी से राई
राई اپنی ذات کی طاقت سے پہاڑ کو بلندی دیتا ہے، اور پہاڑ اپنی ذات کی فضل سے رائی کو بلندی دیتا ہے۔
5
ये पिछले पहर का ज़र्द-रू चाँद
बे-राज़ ओ नियाज़-ए-आश्नाई
یہ پچھلے پہر کا زرد رنگ چاند، راز اور اپنائیت کی التجا ہے۔
7
इक तू है कि हक़ है इस जहाँ में
बाक़ी है नुमूद-ए-सीमयाई
تم اکیلے ہی اس جہاں میں سچ ہو، باقی صرف ایک وہم و خیال ہے۔
8
हैं उक़्दा-कुशा ये ख़ार-ए-सहरा
कम कर गिला-ए-बरहना-पाई
یہ عُقدہ کشا یہ خَارِ صحرا ہیں، کم کر گِلہِ برہنہ پائی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
