غزل

हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई

हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई
علامہ اقبال· Ghazal· 8 shers

یہ غزل محوائے خودنمائی کے اثر کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر چیز اپنی شان و شوکت کا اظہار کرتی ہے۔ یہ زندگی کو ایک بے ذائقہ اور بے مقصد کوشش قرار دیتی ہے، اور کہتی ہے کہ حقیقی الٰہی پن خود کی تعمیر میں پنہاں ہے۔ آخر میں، یہ کہتی ہے کہ وجود کا جوہر اور تقدیر ہی جدائی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हर चीज़ है महव-ए-ख़ुद-नुमाई हर ज़र्रा शाहीद-ए-किब्रियाई
ہر چیز ہے محو خودنمائی ہر ذرہ شہید کبریائی
ہر چیز میں خود-نمائی کا نشاط ہے، اور ہر ذرہ شان و شوکت کا گواہ ہے۔
2
बे-ज़ौक़-ए-नुमूद ज़िंदगी मौत तामीर-ए-ख़ुदी में है ख़ुदाई
بے ذوق نمود زندگی موت تعمیر خودی میں ہے خدائی
بے ذوقِ نموَد زندگی موت، تعمیرِ خودی میں ہے خدائی۔
3
राई ज़ोर-ए-ख़ुदी से पर्बत पर्बत ज़ोफ़-ए-ख़ुदी से राई
رائی زور خودی سے پربت پربت ضعف خودی سے رائی
राई اپنی ذات کی طاقت سے پہاڑ کو بلندی دیتا ہے، اور پہاڑ اپنی ذات کی فضل سے رائی کو بلندی دیتا ہے۔
4
तारे आवारा-ओ-कम-आमेज़ तक़दीर-ए-वजूद है जुदाई
تارے آوارہ و کم آمیز تقدیر وجود ہے جدائی
تارے آوارا او کم آماز، تقدیرِ وجود ہی جدائی ہے۔
5
ये पिछले पहर का ज़र्द-रू चाँद बे-राज़ ओ नियाज़-ए-आश्नाई
یہ پچھلے پہر کا زرد رو چاند بے راز و نیاز آشنائی
یہ پچھلے پہر کا زرد رنگ چاند، راز اور اپنائیت کی التجا ہے۔
6
तेरी क़िंदील है तिरा दिल तू आप है अपनी रौशनाई
تیری قندیل ہے ترا دل تو آپ ہے اپنی روشنائی
تیری قندیل ہے تیرا دل، تُو اَپ ہے اپنی روشنائی۔
7
इक तू है कि हक़ है इस जहाँ में बाक़ी है नुमूद-ए-सीमयाई
اک تو ہے کہ حق ہے اس جہاں میں باقی ہے نمود سیمیائی
تم اکیلے ہی اس جہاں میں سچ ہو، باقی صرف ایک وہم و خیال ہے۔
8
हैं उक़्दा-कुशा ये ख़ार-ए-सहरा कम कर गिला-ए-बरहना-पाई
ہیں عقدہ کشا یہ خار صحرا کم کر گلۂ برہنہ پائی
یہ عُقدہ کشا یہ خَارِ صحرا ہیں، کم کر گِلہِ برہنہ پائی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.