غزل

फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक

फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक
علامہ اقبال· Ghazal· 4 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ میری فطرت نے مجھے چالاکی کا اندیشہ نہیں دیا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی طاقت اس کی 'خاک' میں ہے، جو صرف ادراک یا جذبات کی نہیں بلکہ جبریل کی ہے۔ یہ خاک نہ کہندے کی پرواز رکھتی ہے اور نہ ہی باغ کی چننی سے چنتی ہے؛ بلکہ یہ وہ آنسو ہیں جو اللہ نے عطا کیے ہیں اور جو ستاروں کو بھی چمک دیتے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक रखती है मगर ताक़त-ए-परवाज़ मिरी ख़ाक
فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک
فطرت نے مجھے چالاک ہونے کا اندازہ نہیں دیا، مگر وہ میری پرواز کی طاقت کو اپنی خاک میں رکھتی ہے۔
2
वो ख़ाक कि है जिस का जुनूँ सयक़ल-ए-इदराक वो ख़ाक कि जिबरील की है जिस से क़बा चाक
وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل ادراک وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک
وہ خاک جس کا جنون سयक़ل-ए-इदراک ہے، وہ خاک جس سے جبرئیل کا قبا چاک۔
3
वो ख़ाक कि परवा-ए-नशेमन नहीं रखती चुनती नहीं पहना-ए-चमन से ख़स ओ ख़ाशाक
وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک
وہ خاک کی پرواہِ نشیمن نہیں رکھتی، نہ چنتی ہے پھولوں سے خوشبو دار گھاس کو۔
4
इस ख़ाक को अल्लाह ने बख़्शे हैं वो आँसू करती है चमक जिन की सितारों को अरक़-नाक
اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق ناک
یہ آنسو، جو اللہ نے عطا کیے ہیں، دھول کے مانند ہیں؛ وہ ستاروں کو اپنے نَےکَر سے چمکنے دیتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.