غزل
फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक
फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक
یہ غزل بتاتی ہے کہ میری فطرت نے مجھے چالاکی کا اندیشہ نہیں دیا۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی طاقت اس کی 'خاک' میں ہے، جو صرف ادراک یا جذبات کی نہیں بلکہ جبریل کی ہے۔ یہ خاک نہ کہندے کی پرواز رکھتی ہے اور نہ ہی باغ کی چننی سے چنتی ہے؛ بلکہ یہ وہ آنسو ہیں جو اللہ نے عطا کیے ہیں اور جو ستاروں کو بھی چمک دیتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
फ़ितरत ने न बख़्शा मुझे अंदेशा-ए-चालाक
रखती है मगर ताक़त-ए-परवाज़ मिरी ख़ाक
فطرت نے مجھے چالاک ہونے کا اندازہ نہیں دیا، مگر وہ میری پرواز کی طاقت کو اپنی خاک میں رکھتی ہے۔
2
वो ख़ाक कि है जिस का जुनूँ सयक़ल-ए-इदराक
वो ख़ाक कि जिबरील की है जिस से क़बा चाक
وہ خاک جس کا جنون سयक़ل-ए-इदراک ہے، وہ خاک جس سے جبرئیل کا قبا چاک۔
3
वो ख़ाक कि परवा-ए-नशेमन नहीं रखती
चुनती नहीं पहना-ए-चमन से ख़स ओ ख़ाशाक
وہ خاک کی پرواہِ نشیمن نہیں رکھتی، نہ چنتی ہے پھولوں سے خوشبو دار گھاس کو۔
4
इस ख़ाक को अल्लाह ने बख़्शे हैं वो आँसू
करती है चमक जिन की सितारों को अरक़-नाक
یہ آنسو، جو اللہ نے عطا کیے ہیں، دھول کے مانند ہیں؛ وہ ستاروں کو اپنے نَےکَر سے چمکنے دیتے ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
