یون مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے — خواجہ حیدر علی آتش
“If the rival, out of envy, withholds his praise, let him withhold it so; Atish, what a lover's ghazal is this that you have sung!”
معنی
اگر مدعی حسد کی وجہ سے داد نہ دے تو نہ دے؛ اے آتش، تو نے یہ کیسی عاشقانہ غزل کہی ہے!
تشریح
اس شعر میں آتش اپنے ہی فن پر ایک شیریں سا ناز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حریف یا مدعی حسد کے مارے داد نہ دے تو نہ دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا — کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ غزل عاشقانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ایک بے مثال تخلیق ہے۔ یہاں حسد کو ایسی دیوار کی طرح دکھایا گیا ہے جو کسی کی نظر کو تو روک سکتی ہے مگر ہنر کی چمک کو کم نہیں کر سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
