غزل
ذکر میرا بَ بَدی بھی اسے منظور نہیں
ذکر میرا بَ بَدی بھی اسے منظور نہیں
یہ غزل محبوب کی بے اعتنائی اور عدم قبولیت کو نمایاں کرتی ہے، جہاں شاعر کا ذکر، خواہ برا ہی کیوں نہ ہو، اسے منظور نہیں۔ یہ وجود کے فلسفیانہ پہلوؤں پر غور کرتی ہے، جہاں اپنی ذات میں سمندر جیسی گہرائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ شاعر منصور کی راہ سے مختلف، اپنی باطنی سچائی کو قبول کرنے کی بات کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ज़िक्र मेरा ब-बदी भी उसे मंज़ूर नहीं
ग़ैर की बात बिगड़ जाए तो कुछ दूर नहीं
ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
انہیں میرا ذکر، برائی میں بھی، منظور نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی اور (رقیب) کی بات بگڑ جائے تو یہ ان کے لیے کچھ بعید نہیں۔
2
वादा-ए-सैर-ए-गुलिस्ताँ है ख़ुशा ताले-ए-शौक़
मुज़्दा-ए-क़त्ल मुक़द्दर है जो मज़कूर नहीं
وعدۂ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق
مژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں
باغ کی سیر کا وعدہ ہے، اور اس شوق کی قسمت کتنی خوش بخت لگتی ہے۔ لیکن، جو مذکور نہیں ہے، وہ قتل کی خبر ہی تقدیر ہے۔
3
शाहिद-ए-हस्ती-ए-मुतलक़ की कमर है आलम
लोग कहते हैं कि है पर हमें मंज़ूर नहीं
شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں
یہ دنیا مطلق ہستی کے ظہور کی کمر کی مانند ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ موجود ہے لیکن ہمیں یہ منظور نہیں ہے۔
4
क़तरा अपना भी हक़ीक़त में है दरिया लेकिन
हम को तक़लीद-ए-तुनुक-ज़र्फ़ी-ए-मंसूर नहीं
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
میرا اپنا وجود، اگرچہ ایک قطرہ ہے، حقیقت میں ایک دریا ہے۔ لیکن میں منصور کی اُس کم ظرفی کی تقلید نہیں کرتا جس نے گہرے رازوں کو فاش کیا تھا۔
5
हसरत ऐ ज़ौक़-ए-ख़राबी कि वो ताक़त न रही
इश्क़-ए-पुर-अरबदा की गूँ तन-ए-रंजूर नहीं
حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
حسرت ہے کہ بربادی کے شوق کی وہ طاقت اب نہیں رہی۔ یہ رنجور بدن پر آشوب عشق کے لائق نہیں ہے۔
6
मैं जो कहता हूँ कि हम लेंगे क़यामत में तुम्हें
किस रऊनत से वो कहते हैं कि हम हूर नहीं
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
جب میں کہتا ہوں کہ قیامت کے دن میں تمہیں اپنا بنا لوں گا، تو وہ کس رعونت سے کہتے ہیں کہ ہم کوئی حور نہیں ہیں۔
7
ज़ुल्म कर ज़ुल्म अगर लुत्फ़ दरेग़ आता हो
तू तग़ाफ़ुल में किसी रंग से मअज़ूर नहीं
ظلم کر ظلم اگر لطف دریغ آتا ہو
تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
اگر تمہیں مہربانی کرنے میں ہچکچاہٹ ہے تو ظلم کرو۔ مگر تم اپنی غفلت کے لیے کسی بھی طرح سے معذور نہیں۔
8
साफ़ दुर्दी-कश-ए-पैमाना-ए-जम हैं हम लोग
वाए वो बादा कि अफ़्शुर्दा-ए-अंगूर नहीं
صاف دردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
ہم جامِ جم کے تہ نشین پینے والے سچے رند ہیں۔ افسوس ہے اُس شراب پر جو انگور سے کشید نہ کی گئی ہو۔
9
हूँ ज़ुहूरी के मुक़ाबिल में ख़िफ़ाई 'ग़ालिब'
मेरे दावे पे ये हुज्जत है कि मशहूर नहीं
ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں
غالب، میں مشہور لوگوں کے مقابلے میں خفائی ہوں۔ میری یہ گمنامی ہی میرے دعوے کا ثبوت ہے۔
10
पीठ मेहराब की क़िबले की तरफ़ रहती है
महव-ए-निस्बत हैं तकल्लुफ़ हमें मंज़ूर नहीं
پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
محو نسبت ہیں تکلف ہمیں منظور نہیں
محراب کی پیٹھ قبلے کی طرف رہتی ہے۔ ہم اپنے نسبت میں محو ہیں، ہمیں کوئی تکلف منظور نہیں ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
