रखता फिरूँ हूँ ख़िर्क़ा ओ सज्जादा रहन-ए-मय
मुद्दत हुई है दावत आब-ओ-हवा किए
“My dervish cloak and prayer mat, I keep them pawned for wine;It's been ages since I've entertained the elements (water and air).”
— مرزا غالب
معنی
میں اپنا خرقہ اور سجادہ شراب کے عوض رہن رکھے پھرتا ہوں۔ مجھے آب و ہوا کی دعوت کیے ہوئے، یعنی بیرونی دنیا سے تعلق رکھے ہوئے، بہت مدت ہو گئی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
