غزل

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
مرزا غالب· Ghazal· 14 shers· radif: हैं

یہ غزل انسانی تخیل اور قوت ارادی کی بے پناہ فطرت کو استعاروں کے ذریعے بیان کرتی ہے، جیسے ہوا کو باندھنا یا افکار کے جوہر کو قید کرنا۔ یہ آہ کی متضاد طاقت اور زندگی کی تیزی پر غور کرتی ہے، اور بالآخر وجود کے آنسوؤں میں بھی ایک انوکھی آزادی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
तेरे तौसन को सबा बाँधते हैं हम भी मज़मूँ की हवा बाँधते हैं
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
جس طرح تیرے تیز رفتار گھوڑے کو صبح کی ہوا سے باندھتے ہیں، اسی طرح ہم بھی اپنے مضامین کی فضا اور تصورات کو قابو میں لاتے ہیں۔
2
आह का किस ने असर देखा है हम भी एक अपनी हवा बाँधते हैं
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہے ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
آہ کا اثر بھلا کس نے دیکھا ہے؟ ہم بھی بس اپنی ہی ہوائی باتیں بناتے ہیں یا دعوے کرتے ہیں۔
3
तेरी फ़ुर्सत के मुक़ाबिल ऐ उम्र बर्क़ को पा-ब-हिना बाँधते हैं
تیری فرصت کے مقابل اے عمر برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں
اے عمر، تیری فرصت کے مقابلے میں، لوگ بجلی کو پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر باندھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کا وقت، یہاں تک کہ اس کے فرصت کے لمحات بھی اتنے مختصر ہیں کہ لوگ بجلی جیسی تیز چیز کو بھی قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
4
क़ैद-ए-हस्ती से रिहाई मा'लूम अश्क को बे-सर-ओ-पा बाँधते हैं
قید ہستی سے رہائی معلوم اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
قیدِ ہستی سے رہائی معلوم ہے، پھر بھی بے سر و پا آنسوؤں کو باندھا جاتا ہے۔
5
नश्शा-ए-रंग से है वाशुद-ए-गुल मस्त कब बंद-ए-क़बा बाँधते हैं
نشۂ رنگ سے ہے واشد گل مست کب بند قبا باندھتے ہیں
پھول کا کھلنا اس کے رنگوں کے نشے سے ہے۔ نشے میں دھت لوگ بھلا کب اپنے لباس کے بند باندھتے ہیں؟
6
ग़लती-हा-ए-मज़ामीं मत पूछ लोग नाले को रसा बाँधते हैं
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
ان کی تحریروں میں مضامین کی غلطیاں مت پوچھو، لوگ تو ایک معمولی نالے کو ہی رسا شاعری سمجھتے ہیں۔
7
अहल-ए-तदबीर की वामांदगियाँ आबलों पर भी हिना बाँधते हैं
اہل تدبیر کی واماندگیاں آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
اہل تدبیر کی واماندگیاں، وہ چھالوں پر بھی مہندی لگاتے ہیں۔
8
सादा पुरकार हैं ख़ूबाँ 'ग़ालिब' हम से पैमान-ए-वफ़ा बाँधते हैं
سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں
غالب، خوبصورت لوگ جو بظاہر سادہ مگر پرکار ہیں، ہم سے وفا کا عہد باندھتے ہیں۔
9
पाँव में जब वो हिना बाँधते हैं मेरे हाथों को जुदा बाँधते हैं
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
جب وہ اپنے پاؤں میں حنا لگاتے ہیں، تو میرے ہاتھ جدا بندھ جاتے ہیں۔
10
हुस्न-ए-अफ़्सुर्दा-दिली-हा-रंगीं शौक़ को पा-ब-हिना बाँधते हैं
حسن افسردہ دلی ہا رنگیں شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
اداس دلوں کی رنگین خوبصورتی شوق کو اس طرح باندھ دیتی ہے، جیسے مہندی لگے پاؤں بندھ جاتے ہیں۔
11
तेरे बीमार पे हैं फ़रियादी वो जो काग़ज़ में दवा बाँधते हैं
تیرے بیمار پہ ہیں فریادی وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں
جو لوگ کاغذ میں دوا باندھتے ہیں، یعنی علاج کرنے والے، وہی آپ کے بیمار محبوب پر شکایتیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک متضاد صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جہاں معالج علاج فراہم کرنے کے بجائے شکایتیں کر رہے ہیں۔
12
क़ैद में भी है असीरी आज़ाद चश्म-ए-ज़ंजीर को वा बाँधते हैं
قید میں بھی ہے اسیری آزاد چشم زنجیر کو وا باندھتے ہیں
قید میں بھی میری اسیری آزاد ہے۔ وہ زنجیر کی چشم کو کھلا باندھتے ہیں۔
13
शैख़-जी का'बे का जाना मा'लूम आप मस्जिद में गधा बाँधते हैं
شیخ جی کعبے کا جانا معلوم آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
اے شیخ، کعبے کا آپ کا جانا تو معلوم ہے، مگر آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں۔
14
किस का दिल ज़ुल्फ़ से भागा कि 'असद' दस्त-ए-शाना ब-क़ज़ा बाँधते हैं
کس کا دل زلف سے بھاگا کہ اسدؔ دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں
اے 'اسد'، کس کا دل زلفوں سے بھاگا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ کنگھے کا ہاتھ بھی اب قضا (قسمت) سے بندھا ہوا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں | Sukhan AI