“O Ghalib, we shall recount your plight to the beloved; yet that she calls for you upon hearing it—we make no guarantee.”
اے غالبؔ! ہم تمہارا حال محبوب کو سنا تو دیں گے، مگر وہ سن کر تمہیں بلا بھی لیں گے، اس بات کی ہم کوئی ضمانت یا ذمہ داری نہیں لیتے۔
اس شعر میں غالب ایک دوست یا قاصد کے ذریعے محبت کی بے بسی کو شگفتگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ قاصد تسلی دیتا ہے کہ وہ محبوب کے سامنے عاشق کا حالِ زار تو بیان کر دے گا، مگر اس بات کا کوئی 'اجارہ' یعنی ضمانت نہیں دیتا کہ وہ پسیج کر شرفِ باریابی بھی بخشے گی۔ یہ انداز محبوب کی روایتی بے نیازی اور عاشق کی معصوم امید کو مسکراہٹ کے ساتھ سمیٹ لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
