غزل
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
اس غزل میں مرزا غالب نے محبوب کی پروقار بے اعتنائی اور عشق کی لاچاری کو بیان کیا ہے، جہاں محبوب کا خاموشی سے سن لینا ہی عاشق کو شکوے سے محروم کر دیتا ہے۔ شاعر نے بے نیازی اور امید و بیم کی باریک کیفیات کو انتہائی پرتاثیر انداز میں پیش کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
ता हम को शिकायत की भी बाक़ी न रहे जा
सुन लेते हैं गो ज़िक्र हमारा नहीं करते
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
سن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
تاکہ ہمیں شکایت کا بھی کوئی موقع باقی نہ رہے، وہ خود تو ہمارا ذکر نہیں کرتے مگر دوسروں سے سن ضرور لیتے ہیں۔
2
'ग़ालिब' तिरा अहवाल सुना देंगे हम उन को
वो सुन के बुला लें ये इजारा नहीं करते
غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
اے غالبؔ! ہم تمہارا حال محبوب کو سنا تو دیں گے، مگر وہ سن کر تمہیں بلا بھی لیں گے، اس بات کی ہم کوئی ضمانت یا ذمہ داری نہیں لیتے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
