“So that no room remains for us even to complain, / They listen when I am spoken of, though they never speak my name.”
تاکہ ہمیں شکایت کا بھی کوئی موقع باقی نہ رہے، وہ خود تو ہمارا ذکر نہیں کرتے مگر دوسروں سے سن ضرور لیتے ہیں۔
اس شعر میں محبوب کی نہایت لطیف اور ہوشیار بے رخی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ وہ خود تو عاشق کا نام تک لب پر نہیں لاتے، مگر محفل میں جب کوئی دوسرا ان کا تذکرہ کرتا ہے تو خاموشی سے سن لیتے ہیں تاکہ شکوے اور شکایت کا بہانہ بھی باقی نہ رہے۔ یہ کیفیت اس درد کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کی ذرا سی بے نیازی عاشق سے شکایت کا حق بھی چھین لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
