बू-ए-गुल नाला-ए-दिल दूद-ए-चराग़-ए-महफ़िल
जो तिरी बज़्म से निकला सो परेशाँ निकला
“The scent of the rose, the heart's cry, the smoke of the lamp of the gathering, Whatever emerged from your assembly, emerged in disarray.”
— مرزا غالب
معنی
پھول کی خوشبو، دل کا نالہ اور محفل کے چراغ کا دھواں – جو کچھ بھی تمہاری بزم سے نکلا، وہ سب بکھرا ہوا اور پریشان ہی نکلا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محبوب کی پر اثر موجودگی سے ہر شے بے چین اور مضطرب ہو کر نکلتی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
