ज़ख़्म ने दाद न दी तंगी-ए-दिल की या रब
तीर भी सीना-ए-बिस्मिल से पर-अफ़्शाँ निकला
“O Lord, the wound could not relieve my heart's great pain; Even the arrow from the martyr's breast, scattering feathers, flew again.”
— مرزا غالب
معنی
یا رب، زخم نے دل کی تنگی کو داد نہ دی۔ تیر بھی بسمل کے سینے سے پر افشاں ہو کر نکلا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
