दिल-ए-हसरत-ज़दा था माइदा-ए-लज़्ज़त-ए-दर्द
काम यारों का ब-क़दर-ए-लब-ओ-दंदाँ निकला
“My longing heart was a feast for the pleasure of pain,But friends' involvement proved just lips and teeth, in vain.”
— مرزا غالب
معنی
میرا حسرت زدہ دل درد کی لذت کے لیے ایک دسترخوان تھا، مگر دوستوں کا کام صرف زبانی ثابت ہوا، صرف لب و دندان تک ہی محدود رہا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
