غزل

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے

صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے
مرزا غالب· Ghazal· 10 shers· radif: उठाइए

یہ غزل محبوب یا الٰہی ہستی کی بے پناہ موجودگی کو بیان کرتی ہے، جہاں بیسیوں جلوے آنکھوں کے سامنے ہیں مگر انہیں دیکھنے کی تاب نہیں۔ یہ عشق کے جنون کو برقرار رکھنے کی مشکلات، احسانات کے بوجھ اور حسد کے زخموں کو رسوا نہ کرنے یا پوشیدہ تبسم کا پردہ اٹھانے کی دردناک التجاء پر مشتمل ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
सद जल्वा रू-ब-रू है जो मिज़्गाँ उठाइए ताक़त कहाँ कि दीद का एहसाँ उठाइए
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
جو آپ اپنی پلکیں اٹھائیں تو سو جلوے سامنے ہیں۔ اس دید کے احسان کو اٹھانے کی طاقت کہاں؟
2
है संग पर बरात-ए-मआश-ए-जुनून-ए-इश्क़ या'नी हुनूज़ मिन्नत-ए-तिफ़्लाँ उठाइए
ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق یعنی ہنوز منت طفلاں اٹھائیے
عشق کے جنون کی گزر بسر پتھروں پر ہے؛ یعنی ابھی بھی بچوں کی منتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔
3
दीवार बार-ए-मिन्नत-ए-मज़दूर से है ख़म ऐ ख़ानुमाँ-ख़राब न एहसाँ उठाइए
دیوار بار منت مزدر سے ہے خم اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
دیوار مزدور کے احسان کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہے۔ اے خانماں خراب، اور احسان مت اٹھائیے۔
4
या मेरे ज़ख़्म-ए-रश्क को रुस्वा न कीजिए या पर्दा-ए-तबस्सुम-ए-पिन्हाँ उठाइए
یا میرے زخم رشک کو رسوا نہ کیجیے یا پردۂ تبسم پنہاں اٹھائیے
یا میرے رشک کے زخم کو رسوا نہ کریں، یا اس چھپی ہوئی مسکراہٹ پر سے پردہ اٹھا دیں۔
5
दिल ही नहीं कि मिन्नत-ए-दरबाँ उठाइए कस को वफ़ा का सिलसिला जुम्बाँ उठाइए
دل ہی نہیں کہ منت درباں اٹھائیے کس کو وفا کا سلسلہ جنباں اٹھائیے
یہ صرف میرا دل ہی نہیں ہے جسے دربان کی منت اٹھانی پڑے؛ تو پھر وفا کا سلسلہ کس کو پیش کیا جائے؟
6
ता-चंद दाग़ बैठिए नुक़साँ उठाइए अब चार-सू-ए-'इश्क़ से दूकाँ उठाइए
تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
ہم کب تک داغ برداشت کرتے رہیں گے اور نقصان اٹھاتے رہیں گے؟ اب عشق کے اس بازار سے اپنی دکان اٹھا لیجیے۔
7
हस्ती फ़रेब-नामा-ए-मौज-ए-सराब है यक 'उम्र नाज़-ए-शोख़ी-ए-उनवाँ उठाइए
ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے یک عمر ناز شوخی عنواں اٹھائیے
ہستی سراب کی لہر کے فریب نامہ کی مانند ہے۔ ایک عمر بھر اس کے آغاز کی شوخی اور ناز کو اٹھانا پڑتا ہے۔
8
ज़ब्त-ए-जुनूँ से हर सर-ए-मू है तराना-ख़ेज़ यक नाला बैठिए तो नयस्ताँ उठाइए
ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
جنوں کے ضبط سے ہر بال کی نوک سے نغمہ پھوٹتا ہے۔ ایک نالہ بھر کر بیٹھنے سے ہی آپ پورے نیستان کو بیدار کر سکتے ہیں۔
9
तर्ज़-ए-ख़राश नाला सरिश्क-ए-नमक-असर लुत्फ़-ए-करम बदौलत-ए-मेहमाँ उठाइए
طرز خراش نالہ سرشک نمک اثر لطف کرم بدولت مہماں اٹھائیے
میرا نالہ زخم دینے والے انداز کا ہے، اور میرے آنسو نمک کی طرح مؤثر ہیں۔ اس مہمان کی بدولت اپنی عنایت اور کرم کا اظہار کیجیے۔
10
अंगूर-ए-स'ई बे-सर-ओ-पाई से सब्ज़ है 'ग़ालिब' ब-दोश-ए-दिल ख़ुम-ए-मस्ताँ उठाइए
انگور سعی بے سر و پائی سے سبز ہے غالبؔ بہ دوش دل خم مستاں اٹھائیے
کوشش کا پھل اگرچہ بے سروپا اور بے معنی لگے، پھر بھی وہ ہرا بھرا ہے۔ اے غالب، دل کے کندھے پر مستوں کا خم اٹھا لیجیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.