دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ — مرزا غالب

دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں

“I feel pity, O Ghalib, on that delicate heart of hers; do not spur that cruel infidel to put love to the test.”

— مرزا غالب

معنی

اے غالب، مجھے اس کے نازک دل پر ترس آتا ہے؛ اس محبوب کو محبت آزمانے پر آمادہ مت کرو۔

تشریح

غالبؔ اس شعر میں اپنی مخصوص شوخی اور دلکش طنز کا خوبصورت مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ محبوب کو بے رحم (کافر) کہتے ہیں اور دوسری طرف اس کے دل کو اتنا نازک بتاتے ہیں کہ انہیں اس پر رحم آنے لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کو محبت کا امتحان لینے پر مت اکساؤ، کیونکہ عشق کی کٹھن آزمائشوں کا بوجھ خود اس کا نازک دل شاید برداشت نہ کر سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.