غزل

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
مرزا غالب· Ghazal· 2 shers· radif: में

اس غزل میں غالب نے محبوب کی معصوم بے اعتنائی اور عشق کے جذبے پر اس کی حیرت کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جو قیس کے صحرا میں لیلیٰ کی آمد پر بھی تعجب کرتا ہے۔ شاعر اس کے نازک دل پر رحم کھاتے ہوئے عشق کی کٹھن آزمائشوں اور درد کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क़यामत है कि सुन लैला का दश्त-ए-क़ैस में आना तअ'ज्जुब से वो बोला यूँ भी होता है ज़माने में
قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
یہ کیسی حیرت انگیز بات ہے کہ قیس کے صحرا میں لیلیٰ کی آمد کا سن کر وہ تعجب سے بولا کہ کیا دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے۔
2
दिल-ए-नाज़ुक पे उस के रहम आता है मुझे 'ग़ालिब' न कर सरगर्म उस काफ़िर को उल्फ़त आज़माने में
دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
اے غالب، مجھے اس کے نازک دل پر ترس آتا ہے؛ اس محبوب کو محبت آزمانے پر آمادہ مت کرو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.