'असद' ज़िंदानी-ए-तासीर-ए-उल्फ़त-हा-ए-ख़ूबाँ हूँ
ख़म-ए-दस्त-ए-नवाज़िश हो गया है तौक़ गर्दन में
“Asad, I am a captive to the charm of the beloveds' affections; The curve of a gracious hand has become a collar for my neck.”
— مرزا غالب
معنی
اسد، میں حسینوں کی محبت کے اثر کا قیدی ہوں۔ مہربان ہاتھ کا خم میری گردن میں طوق بن گیا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
