Sukhan AI
दिल-ओ-दीन-ओ-ख़िरद ताराज-ए-नाज़-ए-जल्वा-पैराई
हुआ है जौहर-ए-आईना ख़ेल-ए-मोर ख़िर्मन में

My heart, faith, and intellect are plundered by the pride of her manifesting grace,The mirror's essence has become like ants playing within a granary's space.

مرزا غالب
معنی

میرا دل، دین اور عقل اُس کے جلوہ دکھانے کے ناز سے تاراج ہو گئے ہیں۔ آئینے کا جوہر (میری باطنی حالت) ایسا ہو گیا ہے جیسے خرمن میں چیونٹیوں کا کھیل۔

تشریح

یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیIn app
انگریزی معنیIn app
ہندی تشریحIn app
انگریزی تشریحIn app