غزل
ن تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ن تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
یہ غزل وجود، عدم وجود اور خدا کی ہر جگہ موجودگی سے متعلق گہرے فلسفیانہ سوالات اٹھاتی ہے۔ اس میں ہونے کے بوجھ، غم کے باعث بے حسی اور جسمانی تکلیف سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔ غالب ہر بات پر "یوں ہوتا تو کیا ہوتا" کہنے کی اپنی مخصوص عادت پر بھی غور کرتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न था कुछ तो ख़ुदा था कुछ न होता तो ख़ुदा होता
डुबोया मुझ को होने ने न होता मैं तो क्या होता
جب کچھ نہ تھا تو خدا موجود تھا، اور اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو خدا ہی ہوتا۔ میرے اپنے وجود نے مجھے ڈبو دیا ہے؛ اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
2
हुआ जब ग़म से यूँ बे-हिस तो ग़म क्या सर के कटने का
न होता गर जुदा तन से तो ज़ानू पर धरा होता
جب میں غم سے یوں بے حس ہو گیا، تو سر کے کٹنے کا کیا غم؟ اگر وہ تن سے جدا نہ ہوتا، تو زانو پر دھرا ہوتا۔
3
हुई मुद्दत कि 'ग़ालिब' मर गया पर याद आता है
वो हर इक बात पर कहना कि यूँ होता तो क्या होता
'غالب' کو مرے ہوئے مدت ہو گئی ہے، پر وہ یاد آتے ہیں۔ ان کی ہر بات پر یہ عادت کہ کہنا، 'اگر یوں ہوتا تو کیا ہوتا'، اب بھی یاد آتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
