غزل
نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا
یہ غزل دل کے گہرے زخموں اور ان کی اذیت کو دکھاتی ہے، جہاں اس کا مرہم ہیرے کے ٹکڑوں کی مانند ہے جو تکلیف کو اور بڑھا دیتا ہے۔ یہ محبوب کی طویل انتظار کے بعد کی بے پرواہ نگاہ اور عشق کے مستقل ماتم کا ذکر کرتی ہے۔ شاعر یہ بتاتا ہے کہ حسن کے پیچھے بھی گہرا، دبا ہوا غم چھپا ہوا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
न पूछ नुस्ख़ा-ए-मरहम जराहत-ए-दिल का
कि उस में रेज़ा-ए-अल्मास जुज़्व-ए-आ'ज़म है
دل کے زخم کے مرہم کا نسخہ نہ پوچھو، کہ اس میں ہیرے کا ریزہ اہم جزو ہے۔
2
बहुत दिनों में तग़ाफ़ुल ने तेरे पैदा की
वो इक निगह कि ब-ज़ाहिर निगाह से कम है
بہت دنوں میں تمہاری تغافل نے وہ ایک نگاہ پیدا کی، جو بظاہر نگاہ سے بھی کم ہے۔
3
बहार-ए-ता'ज़ियत आबाद-ए-'इश्क़ मातम है
कि तेग़-ए-यार हिलाल-ए-मह-ए-महरम है
تعزیت کی بہار عشق کا آباد ماتم ہے، کیونکہ محبوب کی تلوار ماہِ محرم کا نیا چاند ہے۔
4
ब-रेहन-ए-ज़ब्त है आईना-बंदी-ए-गौहर
वगर्ना बहर में हर क़तरा चश्म-ए-पुर-नम है
موتی کی چمک اور خوبصورتی اس کے ضبط (قابو میں رہنے) کے باعث ہے۔ ورنہ، سمندر کا ہر قطرہ ایک پرنم آنکھ ہوتا۔
5
चमन में कौन है तर्ज़-आफ़रीन-ए-शेवा-ए-'इश्क़
कि गुल है बुलबुल-ए-रंगीन- व बैज़ा शबनम है
چمن میں عشق کے انداز کا موجد کون ہے، جب گل خود رنگین بلبل ہے اور بیضہ شبنم ہے؟
6
अगर न होवे रग-ए-ख़्वाब सर्फ़-ए-शीराज़ा
तमाम दफ़्तर-ए-रब्त-ए-मिज़ाज बरहम है
اگر خواب کی نازک رگ (یا دھاگا) باندھنے اور منظم کرنے میں صرف نہ ہو، تو مزاج کی ساری تنظیم اور ہم آہنگی بگڑ جاتی ہے۔
7
'असद' ब-नाज़ुकी-ए-तब'-ए-आरज़ू इंसाफ़
कि एक वह्म-ए-ज़'ईफ़-ओ-ग़म-ए-दो-'आलम है
اسد، آرزو کی طبیعت کی نزاکت پر انصاف کرو کہ یہ ایک کمزور وہم ہے، مگر اس میں دونوں عالموں کا غم پوشیدہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
