خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش — مرزا غالب

خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکش شراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں

“By the thought of the rose's glory, wine-lovers are undone,No dust on the tavern's walls and doors, as if no one has come.”

— مرزا غالب

معنی

مے کش گلاب کی خوبصورتی کے خیال میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ وہ شراب خانے نہیں آتے، اس لیے اس کے دیوار و در پر خاک نہیں۔

تشریح

یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.