غزل
مَزے جَہاں کے اپنی نَظَر میں خاک نہیں
مَزے جَہاں کے اپنی نَظَر میں خاک نہیں
یہ غزل گہری مایوسی اور تھکاوٹ کے احساس کو بیان کرتی ہے، جہاں دنیاوی لذتیں بے قدر ہیں اور صرف گہرا دکھ باقی ہے۔ شاعر خود کو مکمل طور پر بے بس محسوس کرتا ہے، اس خاک کی مانند جسے صرف ہوا ہی اڑا سکتی ہے، جس کے پاس عمل کرنے یا رحم طلب کرنے کی طاقت نہیں بچی ہے۔ یہ وجودی خالی پن اور اپنی ہی بے اثر آہوں کی بے فائدہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
02
1
मज़े जहान के अपनी नज़र में ख़ाक नहीं
सिवाए ख़ून-ए-जिगर सो जिगर में ख़ाक नहीं
دنیا کے مزے میری نظر میں خاک کے برابر ہیں۔ خون جگر کے سوا میرے جگر میں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔
2
मगर ग़ुबार हुए पर हवा उड़ा ले जाए
वगरना ताब ओ तवाँ बाल-ओ-पर में ख़ाक नहीं
اگر میں غبار بن جاؤں تو ہوا مجھے اڑا لے جائے گی۔ ورنہ، میرے پروں میں بالکل بھی طاقت اور قوت نہیں ہے۔
3
ये किस बहिश्त-शमाइल की आमद आमद है
कि ग़ैर-ए-जल्वा-ए-गुल रहगुज़र में ख़ाक नहीं
یہ کس بہشت شمائل کی آمد ہے کہ راستے میں پھولوں کی جلوہ نمائی کے سوا مٹی کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔
4
भला उसे न सही कुछ मुझी को रहम आता
असर मिरे नफ़स-ए-बे-असर में ख़ाक नहीं
بھلا اسے رحم نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آئے۔ مگر میری بے اثر سانس میں ذرا بھی کوئی اثر نہیں ہے۔
5
ख़याल-ए-जल्वा-ए-गुल से ख़राब हैं मय-कश
शराब-ख़ाने के दीवार-ओ-दर में ख़ाक नहीं
مے کش گلاب کی خوبصورتی کے خیال میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ وہ شراب خانے نہیں آتے، اس لیے اس کے دیوار و در پر خاک نہیں۔
6
हुआ हूँ इश्क़ की ग़ारत-गरी से शर्मिंदा
सिवाए हसरत-ए-तामीर घर में ख़ाक नहीं
میں عشق کی تباہی سے شرمندہ ہوں۔ میرے گھر میں دوبارہ تعمیر کی حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
7
हमारे शेर हैं अब सिर्फ़ दिल-लगी के 'असद'
खुला कि फ़ाएदा अर्ज़-ए-हुनर में ख़ाक नहीं
ہمارے اشعار اب صرف دل لگی کے لیے ہیں، 'اسد'۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنر کو ظاہر کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
