جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں — مرزا غالب
جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیں
خوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں
“As gazes gather within the eye's pupil,So too my sighs lie dormant in the wonder-house of pain.”
— مرزا غالب
معنی
جیسے آنکھ کی پُتلی میں تمام نگاہیں جمع ہو جاتی ہیں، اسی طرح میری آہیں میرے درد اور زخموں کے حیرت کدے میں خوابیدہ ہیں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
