आलम जहाँ ब-अर्ज़-ए-बिसात-ए-वजूद था
जूँ सुब्ह चाक-ए-जेब मुझे तार-ओ-पूद था
“When the world, a carpet of existence, was unfurled,I was, like dawn, a torn collar, the fabric of my world.”
— مرزا غالب
معنی
جب دنیا وجود کی ایک وسیع بساط کے طور پر پھیلی ہوئی تھی، تب میں، فجر کی طرح، ایک پھٹا ہوا دامن تھا، اور میرے پھٹے ہوئے ہونے کی یہی کیفیت میری ہستی کی بنیادی بناوٹ تھی۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
