ढाँपा कफ़न ने दाग़-ए-उयूब-ए-बरहनगी
मैं वर्ना हर लिबास में नंग-ए-वजूद था
“The shroud has veiled the flaws of my exposed state, Else, in every attire, I was existence's disgrace.”
— مرزا غالب
معنی
کفن نے میری برہنگی کے عیبوں کے داغوں کو چھپا دیا ہے۔ ورنہ، میں ہر لباس میں وجود کے لیے باعثِ شرم تھا
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
