غزل

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
مرزا غالب· Ghazal· 3 shers· radif: की

اس غزل میں غالب نے حیات و وجود کی کشمکش اور اس کے تضادات کو گہرے فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ دنیاوی مسرتیں درحقیقت دل کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، اور زندگی کی کشاکش سے نجات ممکن نہیں کیونکہ تلاطم اور روانی ہی ہستی کی زنجیر ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जुनूँ तोहमत-कश-ए-तस्कीं न हो गर शादमानी की नमक-पाश-ए-ख़राश-ए-दिल है लज़्ज़त ज़िंदगानी की
جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی نمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی
اگر دیوانگی پر خوشی سے تسکین پانے کا الزام نہ ہو، تو زندگی کا سارا لطف دل کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے سوا کچھ نہیں۔
2
कशाकश-हा-ए-हस्ती से करे क्या सई-ए-आज़ादी हुई ज़ंजीर मौज-ए-आब को फ़ुर्सत रवानी की
کشاکش‌ ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادی ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
زندگی کی کشمکش سے نجات پانے کی کوشش کیا کی جائے؟ پانی کی موج کے لیے تو اس کا بہاؤ ہی اس کی زنجیر بن گیا ہے۔
3
पस-अज़-मुर्दन भी दीवाना ज़ियारत-गाह-ए-तिफ़्लाँ है शरार-ए-संग ने तुर्बत पे मेरी गुल-फ़िशानी की
پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
مرنے کے بعد بھی یہ دیوانہ بچوں کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے؛ ان کے پھینکے ہوئے پتھروں سے نکلی چنگاریوں نے میری قبر پر پھول نچھاور کیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.