پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے — مرزا غالب

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے شرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

“Even in death, the madman's tomb remains a shrine for children; the sparks struck from their stones have scattered flowers upon my grave.”

— مرزا غالب

معنی

مرنے کے بعد بھی یہ دیوانہ بچوں کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے؛ ان کے پھینکے ہوئے پتھروں سے نکلی چنگاریوں نے میری قبر پر پھول نچھاور کیے۔

تشریح

کلاسیکی اردو شاعری میں دیوانے عاشق پر گلی کے بچوں کا پتھر برسانا ایک پرلطف اور درد بھرا استعارہ ہے۔ شاعر طنز اور پیار کے ساتھ کہتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی بچوں کا یہ کھیل ختم نہیں ہوا، بلکہ میری قبر ان کے لیے ایک ایسی زیارت گاہ بن گئی ہے جہاں وہ اب بھی پتھر اچھالنے آتے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ قبر کے پتھروں سے ٹکرا کر اٹھنے والی چنگاریوں کو شاعر نے گل فشانی یعنی پھول نچھاور کرنا سمجھا ہے، گویا دنیا کے ستم کو بھی اس نے حسن و عقیدت کا لباس پہنا دیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.