فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر

“From fate, for pleasures lost, what insistent claims we lay!As if stolen bounty were a debt the brigand must repay.”

— مرزا غالب
معنی

ہم فلک سے اپنے گزرے ہوئے عیش و آرام کا کیا کیا تقاضا کرتے ہیں! جیسے ہم چوری شدہ مال کو رہزن پر قرض سمجھ بیٹھے ہوں۔

تشریح

یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.