وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔ — مرزا غالب
“That playful beloved is far too proud of her beauty, Asad; someone ought to hold a mirror to her, and shatter it to shards.”
معنی
اے اسد، وہ شوخ محبوب اپنے حسن پر بہت غرور کرتا ہے، کسی کو چاہیے کہ اسے آئینہ دکھا کر توڑ دے۔
تشریح
غالبؔ یہاں اپنے محبوب کے حسن اور اس کی خود پسندی پر ایک شوخ اور تیکھی سی جھنجھلاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کو اپنے روپ پر اس قدر ناز ہے کہ جی چاہتا ہے کوئی اسے آئینہ دکھائے اور فوراً ہی اسے چکنا چور کر دے۔ آئینہ توڑنے کی یہ تمنا دراصل محبوب کے غرور کو توڑنے کی ایک پُرلُطف اور دلکش تدبیر ہے، جس میں عاشق کی محبت، بے بسی اور ہلکی سی شرارت خوبصورتی سے گندھی ہوئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
