تا کجا اے آگہی رنگ تماشا باختن — مرزا غالب
“How long, O consciousness, to forfeit the spectacle's hue? The opened eye is but an embrace bidding the vision adieu.”
معنی
اے آگہی! تماشے کا رنگ کب تک کھوتے رہو گے؟ آنکھ کا کھلنا تو بس جلوے کو الوداع کہنے کی آغوش بن گیا ہے۔
تشریح
غالب یہاں حد سے بڑھی ہوئی آگہی کے المیے کو بیان کر رہے ہیں، جو انسان سے کائنات کا معصوم لطف اور حیرت چھین لیتی ہے۔ وہ شکوہ کرتے ہیں کہ عقل و فہم کی یہ تلخ بیداری آخر کب تک زندگی کے رنگین تماشوں کو بے نور کرتی رہے گی؟ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جیسے ہی آنکھ حقیقت جاننے کے لیے کھلتی ہے، وہ جلوے کو سمیٹنے کے بجائے دراصل اس کے لیے وداع کی آغوش بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
