حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے — مرزا غالب

حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے آئنہ زانوئے فکر اختراع جلوہ ہے

“Aloof beauty is itself the buyer of its own radiant display; the mirror is thought's bent knee, inventing that very splendor.”

— مرزا غالب

معنی

بے پروا حسن خود ہی اپنے جلوے کی متاع کا خریدار ہے، اور آئینہ محض اس جلوے کی تخلیق میں غرق فکر کا زانو ہے۔

تشریح

مرزا غالب اس شعر میں حسن اور اس کے عرفانِ ذات کا ایک گہرا فلسفیانہ پہلو سامنے لاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بے پروا حسن کسی اور کی داد کا محتاج نہیں، بلکہ وہ تو خود ہی اپنی دلکشی کا سب سے بڑا خریدار اور تماشائی ہے۔ یہاں آئینے کو فکر کے زانو سے تشبیہ دی گئی ہے، جیسے حسن مراقبے میں سر جھکائے خود ہی اپنے نئے نئے جلوے تراش رہا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.