غزل

حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے

حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
مرزا غالب· Ghazal· 2 shers· radif: है

یہ غزل حسن، ادراک اور تجلی کے فلسفیانہ پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، جہاں بے پروا حسن خود اپنے جلوے کا طلب گار نظر آتا ہے۔ غالب نے اس میں آگہی، خود شناسی اور مشاہدے کی ناپائیداری کو ایک گہرے فکری اور حکیمانہ انداز میں بیان کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हुस्न-ए-बे-परवा ख़रीदार-ए-माता-ए-जल्वा है आइना ज़ानू-ए-फ़िक्र-ए-इख़्तिरा-ए-जल्वा है
حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے آئنہ زانوئے فکر اختراع جلوہ ہے
بے پروا حسن خود ہی اپنے جلوے کی متاع کا خریدار ہے، اور آئینہ محض اس جلوے کی تخلیق میں غرق فکر کا زانو ہے۔
2
ता-कुजा ऐ आगही रंग-ए-तमाशा बाख़्तन चश्म-ए-वा-गर्दीदा आग़ोश-ए-विदा-ए-जल्वा है
تا کجا اے آگہی رنگ تماشا باختن چشم وا گردیدہ آغوش وداع جلوہ ہے
اے آگہی! تماشے کا رنگ کب تک کھوتے رہو گے؟ آنکھ کا کھلنا تو بس جلوے کو الوداع کہنے کی آغوش بن گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.