غزل
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
یہ غزل بے پناہ محبت کے درد کو دکھاتی ہے، جہاں محبوب ایک رقیب کی میٹھی باتوں سے بہک جاتا ہے اور سچے عاشق کی خاموش وفاداری کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ نا پہچانی گئی سچائی، اپنی قدر نہ ملنے کے احساس اور ٹوٹی ہوئی خوشیوں سے پیدا ہونے والے گہرے غم کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ہر ٹوٹا ہوا ٹکڑا مزید گہرا زخم بن جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
हो गई है ग़ैर की शीरीं-बयानी कारगर
'इश्क़ का उस को गुमाँ हम बे-ज़बानों पर नहीं
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
رقیب کی شیریں بیانی کارگر ثابت ہوئی ہے۔ اسے ہم بے زبانوں پر عشق کا گمان نہیں ہے۔
2
ज़ब्त से मतलब ब-जुज़ वारस्तगी दीगर नहीं
दामन-ए-तिमसाल आब-ए-आइना से तर नहीं
ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
ضبط کا مطلب وارستگی کے سوا کچھ اور نہیں ہے؛ عکس کا دامن آبِ آئینہ سے تر نہیں ہوتا۔
3
है वतन से बाहर अहल-ए-दिल की क़द्र-ओ-मंज़िलत
'उज़्लत-आबाद-ए-सदफ़ में क़ीमत-ए-गोहर नहीं
ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
عزلت آباد صدف میں قیمت گوہر نہیں
اہلِ دل یا باصلاحیت لوگوں کی قدر و منزلت اُن کے وطن سے باہر ہوتی ہے۔ جس طرح سیپ کے اندر موتی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے۔
4
बाइस-ए-ईज़ा है बरहम-ख़ुर्दन-ए-बज़्म-ए-सुरूर
लख़्त लख़्त-ए-शीशा-ए-बशकस्ता जुज़ निश्तर नहीं
باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور
لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
ایک پرمسرت محفل کا بکھرنا تکلیف کا باعث ہوتا ہے؛ ٹوٹے ہوئے شیشے کا ہر ٹکڑا ایک نشتر کے سوا کچھ نہیں۔
5
वाँ सियाही मर्दुमुक है और याँ दाग़-ए-शराब
मह हरीफ़-ए-नाज़िश-ए-हम-चश्मी-ए-साग़र नहीं
واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغ شراب
مہ حریف نازش ہم چشمیٔ ساغر نہیں
ایک جانب آنکھ کی پتلی کی سیاہی ہے اور دوسری جانب شراب کے داغ والا ساغر۔ چاند، ساغر کی آنکھ جیسی مشابہت کے فخر کا حریف نہیں بن سکتا۔
6
है फ़लक बाला-नशीन-ए-फ़ैज़-ए-ख़म गर दीदनी
'आजिज़ी से ज़ाहिरन रुत्बा कोई बरतर नहीं
ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
عاجزی سے ظاہراً رتبہ کوئی برتر نہیں
اگر بلند آسمان بھی عاجزی سے جھک کر فیض حاصل کرتا ہے، تو ظاہر ہے کہ عاجزی سے بڑھ کر کوئی رتبہ نہیں ہے۔
7
दिल को इज़्हार-ए-सुख़न अंदाज़-ए-फ़तह-उल-बाब है
याँ सरीर-ए-ख़ामा ग़ैर-अज़-इस्तिकाक-ए-दर नहीं
دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے
یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
دل کے لیے الفاظ کا اظہار ایک وسیع دروازہ کھولنے کے مانند ہے۔ یہاں، قلم کی سرسراہٹ اُس دروازے کی چرمراہٹ کے سوا کچھ نہیں۔
8
कब तलक फेरे 'असद' लब-हा-ए-तफ़्ता पर ज़बाँ
ताक़त-ए-लब तिश्नगी ऐ साक़ी-ए-कौसर नहीं
کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
طاقت لب تشنگی اے ساقیٔ کوثر نہیں
اسد، میں کب تک اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتا رہوں گا؟ اے ساقیِ کوثر، میرے ہونٹ اب اس پیاس کو سہ نہیں سکتے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
