غزل

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: पूछ

یہ غزل غم کی گہری اور ہمہ گیر نوعیت کو بیان کرتی ہے، جہاں غم کدہ کا ہر در و دیوار سبزہ زار ہے۔ یہ مجبوری میں بے بسی اور زندگی کے کٹھن راستے کو بلا شکایت سہنے کی بات کرتی ہے، اور زور دیتی ہے کہ سچا درد دل کے اندر رہتا ہے اور اسے بیان کرنا دشوار ہے۔ شاعر ایک گزرے ہوئے شاندار اور خوبصورت دور کی یاد میں بھی ماتم کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
है सब्ज़ा-ज़ार हर दर-ओ-दीवार-ए-ग़म-कदा जिस की बहार ये हो फिर उस की ख़िज़ाँ न पूछ
ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ جس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ
غم کے اس گھر کا ہر در و دیوار سبزہ زار ہے، یعنی ہر طرف غم چھایا ہوا ہے۔ اگر اس کی بہار کا یہ عالم ہے، تو اس کی خزاں (پت جھڑ کا موسم یا زوال) کا حال مت پوچھو، وہ تو کہیں زیادہ بدتر ہوگا۔
2
नाचार बेकसी की भी हसरत उठाइए दुश्वारी-ए-रह-ओ-सितम-ए-हम-रहाँ न पूछ
ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے دشواریٔ رہ و ستم ہم رہاں نہ پوچھ
لاچار ہو کر بےکسی کی حسرتیں بھی برداشت کیجیے۔ راستے کی دشواریوں اور ہم سفروں کے ظلم و ستم کے بارے میں نہ پوچھیے۔
3
जुज़ दिल सुराग़-ए-दर्द ब-दिल-ख़ुफ़्तगाँ न पूछ आईना अर्ज़ कर ख़त-ओ-ख़ाल-ए-बयाँ न पूछ
جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ آئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ
سوئے ہوئے دلوں سے درد کا سراغ مت پوچھو، کیونکہ اسے صرف دل ہی جانتا ہے۔ ظاہری بیان پر سوال کرنے کی بجائے، سچائی دیکھنے کے لیے آئنہ پیش کرو۔
4
हिन्दोस्तान साया-ए-गुल पा-ए-तख़्त था जाह-ओ-जलाल-ए-अहद-ए-विसाल-ए-बुताँ न पूछ
ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا جاہ و جلال عہد وصال بتاں نہ پوچھ
ہندوستان پھولوں کے سائے میں ایک دارالحکومت تھا۔ بتوں (محبوباؤں) سے وصل کے اس دور کی شان و شوکت نہ پوچھو۔
5
पर्वाज़-ए-यक-तप-ए-ग़म-ए-तसख़ीर-ए-नाला है गरमी-ए-नब्ज़-ए-ख़ार-ओ-ख़स-ए-आशियाँ न पूछ
پرواز یک تپ غم تسخیر نالہ ہے گرمیٔ نبض خار و خس آشیاں نہ پوچھ
آہ کی پرواز تو غم کی تسخیر کی فقط ایک دھڑکن ہے۔ آشیانے کے کانٹوں اور تنکوں میں نبض کی گرمی کا مت پوچھو۔
6
तू मश्क़-ए-बाज़ कर दिल-ए-परवाना है बहार बेताबी-ए-तजल्ली-ए-आतिश-ब-जाँ न पूछ
تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار بیتابیٔ تجلیٔ آتش بجاں نہ پوچھ
تم اپنی اداؤں کی مشق کرو، کیونکہ پروانے کا دل بہار میں ہے۔ روح کو جلانے والی آگ کی بے تاب چمک کے بارے میں مت پوچھو۔
7
ग़फ़लत-मता-ए-कफ़्फ़ा-ए-मीज़ान-ए-अद्ल हूँ या रब हिसाब-ए-सख़्ती-ए-ख़्वाब-ए-गिराँ न पूछ
غفلت متاع کفۂ میزان عدل ہوں یا رب حساب سختیٔ خواب گراں نہ پوچھ
میں عدل کے ترازو کے پلڑے میں غفلت کی چیز ہوں۔ اے رب، میری اس گہری نیند (غفلت) کا سخت حساب نہ پوچھنا۔
8
हर दाग़-ए-ताज़ा यक-दिल-ए-दाग़ इंतिज़ार है अर्ज़-ए-फ़ज़ा-ए-सीना-ए-दर्द इम्तिहाँ न पूछ
ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے عرض فضاۓ سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ
ہر تازہ زخم ایک پہلے سے داغدار دل کا انتظار کرتا ہے۔ اس درد سے بھرے سینے میں آزمائشوں کی وسعت کے بارے میں مت پوچھو۔
9
कहता था कल वो महरम-ए-राज़ अपने से कि आह दर्द-ए-जुदाइ-ए-'असद'-उल्लाह-ख़ाँ न पूछ
کہتا تھا کل وہ محرم راز اپنے سے کہ آہ درد جدائی اسدؔ اللہ خاں نہ پوچھ
کل اُس نے اپنے رازداں سے آہ بھرتے ہوئے کہا، اسد اللہ خاں کی جدائی کا درد مت پوچھو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.