जो था सो मौज-ए-रंग के धोके में मर गया
ऐ वाए नाला-ए-लब-ए-ख़ूनीं-नवा-ए-गुल
“Whatever existed, perished in the deception of the wave of color, Alas, for the lament from the blood-stained lips of the vocal rose!”
— مرزا غالب
معنی
جو کچھ بھی تھا، وہ رنگ کی لہر کے فریب میں فنا ہو گیا۔ افسوس، اس خونیں لبوں والے گویا گلاب کے نوحے پر!
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
