तर्फ़-ए-सुख़न नहीं है मुझ से ख़ुदा-न-कर्दा
है नामा-बर को उस से दावा-ए-हम-कलामी
“God forbid, it is not I who lacks a voice,The messenger claims he conversed with her, by his choice.”
— مرزا غالب
معنی
خدا نہ کرے، ایسا نہیں ہے کہ میں بات کرنے سے قاصر ہوں یا میری آواز نہیں۔ بلکہ، قاصد یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے خود اس سے ہم کلامی کی ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
